جمعرات 13 اگست 2026 - 21:13
صلوات محمدی ؐ ایمان، عقیدت اور رحمت الٰہی کا ذریعہ ہے: آغا سید حسن

حوزہ/یومِ وصال نبی ؐ اور یوم شہادت امام حسن ؑ کی مناسبت سے یاگی پورہ ماگام میں انجمنِ شرعی شیعیانِ جموں و کشمیر کے زیر اہتمام مجلسِ عزاء کا انعقاد کیا گیا، جس میں ہزاروں کی تعداد میں فرزندانِ توحید نے شرکت کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یومِ وصال نبی ؐ اور یوم شہادت امام حسن ؑ کی مناسبت سے یاگی پورہ ماگام میں انجمنِ شرعی شیعیانِ جموں و کشمیر کے زیر اہتمام مجلسِ عزاء کا انعقاد کیا گیا، جس میں ہزاروں کی تعداد میں فرزندانِ توحید نے شرکت کی۔

اس موقع پر انجمنِ شرعی شیعیانِ جموں و کشمیر کے صدر حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے صلوات محمدی ؐ کی فضیلت اور اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مومنین کو نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ؐ پر درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صلوات محض ایک دعائیہ کلمہ نہیں بلکہ رسول اکرم ؐ سے محبت، عقیدت اور اہل بیت اطہارؑ سے وابستگی کا اظہار بھی ہے۔ آغا سید حسن نے کہا کہ نبی اکرم ؐ تمام انبیاء و مرسلین میں اعلیٰ ترین مقام و مرتبہ رکھتے ہیں اور آپ ؐ کی ذات اقدس انسانیت کے لیے ہدایت، اخلاق، تقویٰ، صبر، صداقت، امانت، سخاوت اور حسن کردار کا کامل نمونہ ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ مومنین کو سیرت رسول اکرم ؐ اور تعلیمات اہل بیتؑ کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔

آغا سید حسن نے کہا کہ رسول اکرم ؐ اور اہل بیت اطہارؑ کا ذکر اور ان پر صلوات باعث اجر و ثواب اور رحمت الٰہی کے حصول کا ذریعہ ہے۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ نماز اور دیگر عبادات میں صلوات محمد و آل محمدؑ کی خصوصی اہمیت ہے اور مومنین کو اسے شعوری طور پر اپنی زندگی کا معمول بنانا چاہیے۔

انہوں نے سیرت نبوی ؐ کے مختلف پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انبیائے الٰہی کا بنیادی مقصد انسانوں کی ہدایت، اخلاقی تربیت اور انہیں گمراہی و خسران سے نجات دلانا تھا، جبکہ رسول اکرم ؐ نے اعلیٰ اخلاق اور کامل انسانی کردار کا ایسا نمونہ پیش کیا جس کی پیروی پوری انسانیت کے لیے باعث فلاح ہے۔

سانحۂ کربلا اور امام حسینؑ کی عظیم قربانی کا ذکر کرتے ہوئے آغا سید حسن نے کہا کہ واقعۂ کربلا صبر، استقامت، ایثار اور حق و صداقت پر ثابت قدمی کا لازوال درس ہے۔

انہوں نے کہا کہ امام حسینؑ اور شہدائے کربلا نے دین، حق اور اصولوں کی حفاظت کے لیے بے مثال قربانیاں پیش کیں، جن کی یاد محض سوگ تک محدود نہیں ہونی چاہیے،بلکہ ان کے پیغام کو عملی زندگی میں نافذ کرنا بھی ضروری ہے۔

انہوں نے مومنین پر زور دیا کہ وہ سیرت محمد مصطفیٰ ؐ، تعلیمات اہل بیتؑ اور پیغام کربلا سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے تقویٰ، اخلاق، صداقت، عدل اور مظلوم کی حمایت کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha